مواد پر جائیں مواد پر جائیں
میچ ڈے کرکٹ ابھی دیکھیں
مضمون

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام: 2026 میں 11 بڑی تبدیلیاں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھڑے گیارہ کھلاڑیوں کی ذمہ داری، زاویہ اور گیند کے ممکنہ راستے کو واضح کرتے ہیں۔ وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور ت...

20 اکتوبر، 2026 5 min read
کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام: 2026 میں 11 بڑی تبدیلیاں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام: 2026 میں 11 بڑی تبدیلیاں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھڑے گیارہ کھلاڑیوں کی ذمہ داری، زاویہ اور گیند کے ممکنہ راستے کو واضح کرتے ہیں۔ وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین بنیادی مقامات ہیں، مگر ان کی درست جگہ بلے باز کے ہاتھ، گیند باز کی لائن، پچ کی رفتار اور میچ کے مرحلے سے بدلتی رہتی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں آئی سی سی کے پاور پلے قوانین، پاکستان سپر لیگ کے تیز فارمیٹ اور ایک روزہ مقابلوں کی فیلڈنگ پابندیاں کپتان کے فیصلے پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر پہلے پاور پلے میں دائرے سے باہر صرف دو فیلڈر رہ سکتے ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں آخری اوورز کے لیے منصوبہ مزید جارحانہ ہوتا ہے۔ میچ ڈے کرکٹ کے مطابق بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے فیلڈر کا نام نہیں، بلے باز کے ممکنہ شاٹ کا زاویہ سمجھا جائے، پھر ہر گیند کے حساب سے پوزیشن بدلی جائے۔

Gates of Gatot Kaca 1000 · Free demo

A cricket captain arranging eleven fielders around a sunlit professional stadium pitch

فیلڈنگ نقشہ صرف نام یاد کرنے کا کھیل نہیں؛ ایک قدم دائیں یا بائیں کبھی چوکا بچا دیتا ہے اور کبھی میچ ہاتھ سے نکال دیتا ہے۔ مزید بنیادی معلومات کے لیے کرکٹ کے بنیادی قوانین دیکھنا مفید رہے گا۔

کچھ تفصیل جاننے کے لیے یہ مختصر رہنمائی بھی دیکھیں۔

مزید جانیں

غلط فہمی 1: فیلڈنگ پوزیشنز صرف نو ہیں — حقیقت کیا ہے؟

کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کی کوئی ایک مستقل تعداد نہیں، کیونکہ گیارہ بنیادی علاقوں کے اندر کئی ذیلی مقامات شامل ہوتے ہیں۔ سلپ کے لیے پہلی، دوسری اور تیسری سلپ، کور کے لیے شارٹ کور اور ڈیپ کور، جبکہ لیگ سائیڈ پر شارٹ فائن لیگ، ڈیپ فائن لیگ اور ڈیپ اسکوائر لیگ استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے “نو پوزیشنز” کہنا ادھورا جواب ہے؛ عملی میدان میں 30 سے زیادہ نام سننے کو مل سکتے ہیں۔

روایتی ناموں کی بنیاد وکٹ کے گرد زاویوں پر ہے۔ آف سائیڈ میں پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور، مڈ آف اور تھرڈ مین آتے ہیں، جبکہ لیگ سائیڈ میں مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور لانگ لیگ شامل ہوتے ہیں۔ وکٹ کیپر ہمیشہ وکٹ کے پیچھے رہتا ہے، مگر اسپنر کے خلاف وہ اسٹمپ کے قریب اور تیز گیند باز کے خلاف چند قدم پیچھے ہو سکتا ہے۔ لارڈز کے میدان میں باؤنڈری کا سائز مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے باؤنڈری فیلڈر کی جگہ صرف کتابی نقشے سے طے نہیں ہوتی۔

بین الاقوامی سطح پر آئی سی سی کے کھیل کے ضوابط اور میریلبون کرکٹ کلب کے قانون ۲۸ فیلڈنگ کی قانونی حدود سمجھنے کے لیے بنیادی مراجع ہیں۔ میریلبون کرکٹ کلب کی تشریح کا خلاصہ یہ ہے: “فیلڈر گیند کے کھیل میں ہونے کے دوران اپنی قانونی جگہ برقرار رکھے۔” اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ کپتان صرف خوب صورت ترتیب نہیں بنا سکتا؛ فیلڈر کو گیند پھینکے جانے کے لمحے قواعد کے اندر بھی رہنا ہوتا ہے۔

بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز کی فہرست

  • وکٹ کیپر: وکٹ کے پیچھے گیند روکنا، کیچ لینا اور اسٹمپنگ کرنا۔
  • سلپ: بیٹ کے کنارے سے نکلنے والے تیز کیچ کے لیے۔
  • گلی: سلپ اور پوائنٹ کے درمیان کٹ یا ایج کے شاٹس کے لیے۔
  • پوائنٹ: آف سائیڈ کے کٹ، اسکوائر ڈرائیو اور تیز سنگل روکنے کے لیے۔
  • کور اور ایکسٹرا کور: کور ڈرائیو اور آف سائیڈ کے درمیانی خلا کو بند کرنے کے لیے۔
  • مڈ آف اور مڈ آن: سیدھے ڈرائیو اور ایک رن کے راستے پر دباؤ ڈالنے کے لیے۔
  • مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ: پل، فلک اور کلائی کے شاٹس کے خلاف۔
  • فائن لیگ اور تھرڈ مین: کنارے سے نکلنے والی گیند کو باؤنڈری تک جانے سے روکنے کے لیے۔
  • لانگ آف، لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ: بڑے شاٹس کے خلاف آخری حفاظتی حصار۔

غلط فہمی 2: سلپ ہمیشہ ایک ہی جگہ ہوتی ہے — کیا یہ بات جزوی طور پر درست ہے؟

سلپ فیلڈر کی جگہ وکٹ کیپر سے عموماً ۱۵ سے ۳۰ درجے کے زاویے پر ہوتی ہے، مگر اصل فاصلہ گیند کی رفتار، سوئنگ، بلے باز کے اسٹانس اور پچ کے اچھال کے مطابق بدلتا ہے۔ تیز گیند باز کے لیے پہلی سلپ نسبتاً قریب، جبکہ کم رفتار یا زیادہ سوئنگ والی گیند کے لیے سلپ لائن کچھ پیچھے رکھی جا سکتی ہے۔

سلپ کا مقصد ہر کنارے والی گیند پکڑنا نہیں بلکہ بلے کے بیرونی کنارے کے ممکنہ راستے کو بند کرنا ہے۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف آف اسٹمپ سے باہر حرکت کرتی گیند ہو تو پہلی سلپ، دوسری سلپ یا گلی میں تبدیلی مؤثر ہو سکتی ہے؛ بائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف یہی نقشہ الٹ زاویے سے ترتیب پاتا ہے۔ پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی جیسے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز کے سامنے دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے سلپ کارڈ عموماً آف سائیڈ کے باہر زیادہ اہم بن جاتا ہے۔

ایک کم معروف مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ سلپ کی گہرائی صرف گیند کی رفتار سے نہیں، کیچ کے ردعملی وقت سے بھی جڑی ہے۔ اگر فیلڈر مسلسل آگے جھک کر کھڑا ہے تو وہ کم اونچائی کے ایج کے لیے تیار ہوتا ہے، مگر بہت قریب کھڑا فیلڈر تیز گیند پر ردعمل کا وقت کھو سکتا ہے۔ سلپ فیلڈنگ کیچ پریکٹس میں ہاتھوں کی پوزیشن، ابتدائی قدم اور کم اونچائی والے کیچ کی مشق الگ الگ سمجھائی جا سکتی ہے۔

غلط فہمی 3: باؤنڈری فیلڈر ہی ہر چوکا بچاتا ہے — کیا یہ سراسر غلط ہے؟

باؤنڈری فیلڈر کا کام صرف چوکا روکنا نہیں؛ اسے گیند کی رفتار، ہوا، میدان کی ڈھلوان، باؤنڈری رسی اور دوسرے فیلڈرز کے بیک اپ کا حساب بھی رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیپ پوائنٹ، ڈیپ کور، ڈیپ مڈ وکٹ، لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین الگ الگ شاٹ علاقوں کے محافظ ہیں۔

مثلاً بابر اعظم کے خلاف آف اسپنر کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ اور لانگ آن ایک جیسا کام نہیں کرتے۔ ڈیپ مڈ وکٹ پل اور کلائی کے شاٹ کو روکتا ہے، جبکہ لانگ آن سیدھے یا اندر سے باہر مارے گئے شاٹ کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح روہت شرما جیسے طاقتور پل کھیلنے والے بلے باز کے خلاف ڈیپ اسکوائر لیگ کو چند قدم اندر لانے سے ایک رن بچ سکتا ہے، لیکن اس فیصلے سے باؤنڈری کے پیچھے خالی جگہ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

جدید ٹی ٹوئنٹی میں ایک اور عملی مسئلہ فیلڈر کا زاویہ ہے۔ گیند کے بلے سے نکلنے سے پہلے فیلڈر باؤنڈری پر سیدھا نہیں بلکہ شاٹ کی متوقع سمت کے مطابق ترچھا کھڑا ہوتا ہے؛ یوں دوڑ کا فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں آخری پانچ اوورز کے دوران یہ معمولی فرق ایک یا دو رنز کا نہیں، پورے ہدف کا فرق بن سکتا ہے۔ فیلڈر کو کیچ کی کوشش سے پہلے باؤنڈری رسی کی جگہ، روشنی اور گیند کے ممکنہ اسپن کو ضرور دیکھنا چاہیے۔

A deep midwicket fielder tracking a high catch near the boundary rope under stadium floodlights

اس زاویے سے باؤنڈری فیلڈنگ مزید سمجھنے کے لیے ٹی ٹوئنٹی میں ڈیتھ اوورز کی حکمت عملی پڑھیں۔

یہاں ایک تازہ عملی اصول یاد رکھیں: باؤنڈری کے قریب فیلڈر کو ہر گیند پر کم از کم دو منصوبے معلوم ہونے چاہییں، یعنی کیچ آئے تو کیا کرنا ہے اور گیند زمین پر لگے تو بیک اپ کہاں ہے۔ صرف تیز دوڑ کافی نہیں؛ غلط بیک اپ کی وجہ سے روکی ہوئی گیند بھی دو رنز بنوا سکتی ہے۔

اب اگلا مرحلہ فیلڈ کی ترتیب کو میچ کے مرحلے سے ملانا ہے۔

مزید جانیں

اصل میں کیا کام کرتا ہے؟

درست فیلڈنگ ترتیب وہ ہے جو بلے باز کے مضبوط شاٹ کو مشکل بنائے، ایک رن کی قیمت بڑھائے اور کیچ کا امکان پیدا کرے۔ کپتان کو فیلڈر کا نام یاد کرنے سے پہلے گیند کی لائن، بلے باز کا ہاتھ، میچ کا مرحلہ، اسکور کا دباؤ اور باؤنڈری کی سمت دیکھنی چاہیے۔ اسی ترتیب سے فیلڈنگ پوزیشنز کے نام عملی فیصلوں میں بدلتے ہیں۔

فیلڈ لگانے کا مؤثر طریقہ

۱. پہلے بلے باز کا اسٹانس دیکھیں: دایاں ہاتھ یا بایاں ہاتھ، کھلا یا بند اسٹانس، اور فرنٹ فٹ یا بیک فٹ کھیلنے کی عادت۔

۲. گیند باز کی منصوبہ بندی واضح کریں: آف اسٹمپ سے باہر گیند ہو تو سلپ، گلی، پوائنٹ اور کور اہم ہو سکتے ہیں؛ لیگ اسٹمپ کی لائن ہو تو مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ پر توجہ بڑھے گی۔

۳. میدان کے خطرناک خلا کو نشان زد کریں: بعض اوقات ایک اضافی سلپ سے بہتر شارٹ کور ہوتا ہے، کیونکہ بلے باز کا سب سے ممکنہ رن وہیں سے آ رہا ہوتا ہے۔

۴. میچ کے مرحلے کے مطابق تبدیلی کریں: ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹ لینے والی فیلڈ، ایک روزہ کرکٹ میں دائرے کی پابندی، اور ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری بچانے والی فیلڈ الگ ہوگی۔

۵. ہر اوور کے بعد نتیجہ پرکھیں: کون سا شاٹ بار بار کھیلا گیا، گیند کہاں گئی، اور کس فیلڈر نے دوڑ کر رن بچایا۔

آئی سی سی کے محدود اوورز کے قواعد میں دائرے سے باہر فیلڈرز کی حد میچ کے مرحلے کے ساتھ بدلتی ہے۔ اس لیے “ایک ہی فیلڈ ہر اوور” والا طریقہ قانونی طور پر بھی کمزور اور حکمت عملی کے لحاظ سے بھی نقصان دہ ہے۔ ایک غیر معمولی مگر مفید نکتہ یہ ہے کہ فیلڈر کو صرف اسکورنگ شاٹ نہیں، اگلی گیند کے ممکنہ شاٹ کو بھی دیکھنا چاہیے؛ مثال کے طور پر ڈیپ پوائنٹ اندر آنے سے کٹ روک سکتا ہے، مگر اگلی گیند پر اوپن فیس ڈرائیو کے لیے کور کو فوراً ایڈجسٹ کرنا پڑ سکتا ہے۔

میچ ڈے کرکٹ کے تجزیوں میں پاکستان، بھارت، افغانستان اور انگلینڈ کے مقابلوں میں یہی فرق بار بار نمایاں ہوتا ہے: کامیاب کپتان فیلڈ کو جامد تصویر نہیں سمجھتے۔ بابر اعظم، ویرات کوہلی اور افغانستان اے کے جارح بلے بازوں کے خلاف ایک ہی پوزیشن مختلف گیند بازوں کے لیے یکساں مؤثر نہیں رہتی۔ کرکٹ کپتانی اور فیلڈ سیٹنگ کے اصول میں رن ریٹ، وکٹ کی قدر اور مطلوبہ ہدف کے باہمی تعلق کو مزید جوڑا جا سکتا ہے۔

A cricket coach using a tactics board to explain slip, cover, midwicket, and boundary positions

یہ فیصلہ سازی سمجھنے کے بعد اگلا سوال یہ ہے کہ کون سی عام باتیں واقعی وقت ضائع کرتی ہیں۔

کیا چیز نظرانداز کرنی چاہیے؟

سب سے پہلے اس خیال کو نظرانداز کریں کہ بہترین فیلڈنگ کا مطلب ہر جگہ ایک ماہر کھلاڑی کھڑا کرنا ہے۔ فیلڈر کی رفتار، کیچ کی صلاحیت، بازو کی مضبوطی اور گیند واپس پھینکنے کا زاویہ بھی اہم ہیں؛ اگر کمزور بازو والا کھلاڑی تھرو کے مشکل مقام پر ہو تو درست پوزیشن بھی رن روکنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔ اسی طرح صرف مشہور نام دیکھ کر فیلڈر لگانا غلط ہے، کیونکہ میدان، روشنی اور گیند کی حالت ہر مقابلے میں بدلتی ہے۔

دوسری غلطی اسکور بورڈ کو نظرانداز کرنا ہے۔ اگر پاکستان کو آخری دو اوورز میں ۲۴ رنز درکار ہوں تو لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ اور ڈیپ اسکوائر لیگ عموماً ترجیح پاتے ہیں؛ لیکن اگر صرف چھ رنز درکار ہوں اور ایک وکٹ جیت دلا سکتی ہو تو کیچنگ فیلڈ زیادہ منطقی ہو سکتی ہے۔ میریلبون کرکٹ کلب کے قانون ۲۸ اور آئی سی سی کے کھیل کے ضوابط دونوں یہ واضح کرتے ہیں کہ قانونی فیلڈنگ اور مؤثر فیلڈنگ الگ سوالات ہیں؛ کپتان کو دونوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔

تیسری بات، فیلڈنگ نقشے کو موبائل اسکرین کے ایک چھوٹے خاکے تک محدود نہ کریں۔ پچ کی نمی، اوس، ہوا، باؤنڈری کی شکل اور گیند کی عمر کو نوٹ کریں۔ ایک روزہ مقابلے میں پرانی گیند کے ساتھ سلپ کم مؤثر اور ڈیپ پوائنٹ زیادہ ضروری ہو سکتا ہے، جبکہ نئی سرخ گیند کے ساتھ انگلینڈ کے لارڈز یا پاکستان کے راولپنڈی میں سوئنگ کا زاویہ الگ نتیجہ دے سکتا ہے۔ فیلڈر کو ہر گیند سے پہلے جسم کا رخ، پہلا قدم اور بیک اپ ساتھی کی جگہ معلوم ہونی چاہیے۔

آخر میں یہ مختصر یادداشت استعمال کریں:

  • کیچ چاہیے تو فیلڈر کو گیند کے ممکنہ کنارے کے قریب لائیں۔
  • چوکا روکنا ہو تو باؤنڈری اور اندرونی بیک اپ دونوں طے کریں۔
  • سنگل روکنا ہو تو فیلڈر کو صرف شاٹ کی سمت نہیں، وکٹوں کے درمیان دوڑ کے زاویے سے رکھیں۔
  • دائرے کی پابندی پہلے دیکھیں، فیلڈر کی خوب صورتی بعد میں۔
  • ہر بلے باز کے خلاف بائیں اور دائیں ہاتھ کے لیے الگ منصوبہ رکھیں۔

Close view of cricket fielding cones marking cover point, square leg, and fine leg training zones

اگر آپ مکمل فیلڈنگ لغت محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو کرکٹ اصطلاحات کی مکمل لغت بھی مفید رہے گی۔

صحیح فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنا آغاز ہے، اصل مہارت یہ جاننا ہے کہ کون سا فیلڈر کس گیند، کس بلے باز اور کس اسکور کے لیے کہاں کھڑا ہونا چاہیے۔ میچ کے دوران ایک قدم کی تبدیلی، باؤنڈری سے اندر آنے کا درست وقت اور بیک اپ کا واضح منصوبہ اکثر بڑے شاٹ کو ایک رن تک محدود کر دیتا ہے۔ فیلڈ کو ہر اوور کے بعد دوبارہ پڑھیں، کیونکہ کرکٹ میں جامد نقشہ جلد پرانا ہو جاتا ہے۔

اپنی کرکٹ معلومات کو مزید منظم انداز میں بڑھانے کے لیے یہ رہنمائی دیکھیں۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے بنیادی نام کیا ہیں؟

جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ شارٹ کور، ڈیپ کور، لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ اسکوائر لیگ اور ڈیپ مڈ وکٹ جیسے ذیلی مقامات بھی استعمال ہوتے ہیں۔ پوزیشن کا نام گیند کے زاویے اور وکٹ سے اس کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ کپتان بلے باز کے ہاتھ، گیند باز کی لائن اور میچ کے مرحلے کے مطابق ان مقامات کو تبدیل کرتا ہے۔

سوال: سلپ فیلڈر کہاں کھڑا ہوتا ہے؟

جواب: سلپ فیلڈر وکٹ کیپر کے دائیں یا بائیں جانب، بلے کے بیرونی کنارے سے آنے والے کیچ کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف آف سائیڈ کی سلپ پوزیشن عموماً زیادہ اہم ہوتی ہے، جبکہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف زاویہ الٹ سمت میں بنتا ہے۔ پہلی، دوسری اور تیسری سلپ وکٹ سے مختلف فاصلے پر رکھی جاتی ہیں۔ تیز گیند، سوئنگ اور پچ کے اچھال کے مطابق یہ فاصلہ تقریباً ۱۵ سے ۳۰ درجے کے عملی زاویے میں بدل سکتا ہے۔

سوال: پوائنٹ اور کور فیلڈنگ پوزیشنز میں کیا فرق ہے؟

جواب: پوائنٹ عموماً وکٹ کے اسکوائر پر کٹ اور اسکوائر ڈرائیو روکتا ہے، جبکہ کور وکٹ سے ترچھے زاویے پر کور ڈرائیو کا راستہ بند کرتا ہے۔ پوائنٹ نسبتاً سیدھا اسکوائر شاٹ دیکھتا ہے اور کور آگے کی طرف آنے والی ڈرائیو کو روکتا ہے۔ شارٹ پوائنٹ کیچ کے لیے قریب آ سکتا ہے، جبکہ ڈیپ پوائنٹ باؤنڈری بچانے کے لیے پیچھے رہتا ہے۔ بلے باز کے قدموں اور گیند کی چوڑائی کے مطابق دونوں پوزیشنز کے درمیان فاصلہ مسلسل بدل سکتا ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز کیسے یاد کی جائیں؟

جواب: فیلڈنگ پوزیشنز یاد کرنے کا آسان طریقہ میدان کو آف سائیڈ، لیگ سائیڈ، وکٹ کے پیچھے اور باؤنڈری حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ پہلے وکٹ کیپر، سلپ، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین یاد کریں۔ پھر ہر نام کو متوقع شاٹ سے جوڑیں، مثلاً پوائنٹ کو کٹ اور مڈ وکٹ کو پل کے ساتھ۔ عملی مشق میں خالی میدان پر کھڑے ہو کر وکٹ سے زاویہ دیکھنا صرف فہرست پڑھنے سے زیادہ مؤثر رہتا ہے۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈنگ پوزیشنز ٹیسٹ کرکٹ سے کیسے مختلف ہیں؟

جواب: ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری بچانے اور دائرے کی قانونی پابندیوں کو فوری طور پر ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹ لینے والی قریبی فیلڈ زیادہ دیر برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کے پاور پلے میں دائرے سے باہر فیلڈرز کی تعداد محدود ہوتی ہے اور آخری اوورز میں ڈیپ فیلڈرز ضروری ہو جاتے ہیں۔ ٹیسٹ میچ میں سلپ، گلی اور شارٹ لیگ جیسے کیچنگ مقامات کئی اوورز تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ فارمیٹ کے ساتھ گیند کی عمر، اسکور کا دباؤ اور بلے باز کا خطرہ بھی فیصلہ بدلتے ہیں۔

سوال: اگر فیلڈر غلط پوزیشن پر ہو تو کیا کیا جائے؟

جواب: اگلی گیند سے پہلے کپتان کو فیلڈر کا زاویہ، باؤنڈری کا فاصلہ اور ممکنہ شاٹ دیکھ کر پوزیشن درست کرنی چاہیے۔ اگر ایک ہی جگہ سے بار بار رنز بن رہے ہوں تو فیلڈر کو صرف پیچھے کرنا کافی نہیں؛ گیند کی لائن یا گیند باز کا منصوبہ بھی بدلنا پڑ سکتا ہے۔ فیلڈر کو واضح طور پر بتائیں کہ ترجیح کیچ ہے، سنگل روکنا ہے یا باؤنڈری بچانی ہے۔ آئی سی سی کے فیلڈنگ ضوابط بھی دیکھیں تاکہ تبدیلی دائرے کی پابندی اور قانونی حد کے اندر رہے۔

سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز کے نام چند گھنٹوں میں یاد ہو سکتے ہیں، مگر درست زاویہ اور فیصلہ سازی کے لیے کئی ہفتوں کی مشق درکار ہوتی ہے۔ نئے کھلاڑی کو پہلے میدان کا خاکہ، پھر شاٹ کے مطابق فیلڈر کی حرکت، اور آخر میں میچ کے اسکور کے مطابق تبدیلی سیکھنی چاہیے۔ ہفتے میں تین مشقوں کے دوران ہر پوزیشن پر کم از کم ۱۰ کیچ یا گراؤنڈ فیلڈنگ مواقع رکھنا مفید رہتا ہے۔ کوچ کو نام یاد ہونے کے بجائے فیلڈر کے پہلے قدم، بیک اپ اور تھرو کے معیار کو جانچنا چاہیے۔

مزید کرکٹ تجزیوں اور عملی حکمت عملی کے لیے میچ ڈے کرکٹ کے ساتھ جڑے رہیے۔

مزید جانیں

پڑھنے کے لیے شکریہ۔

§

میچ ڈے کرکٹ · Editorial Archive

متعلقہ مضامین